اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا : آغا مرتضٰی پویا معروف اسلامی اسکالر اور دانشور ہیں، آپ نے میدان صحافت میں بھی نام پیدا کیا۔ ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آغا مرتضٰی پویا کے والد گرامی آیت اللہ آقا حاجی مرزا مہدی پویا یزدی 1947ء میں کراچی آئے، وہاں علمی و دینی کام کی سرپرستی کرتے رہے اور ایک مدرسہ جعفریہ کی تشکیل کی، جو ابھی تک کام کر رہا ہے۔ مرتضٰی پویا نے کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا اور 1957ء سے عملی زندگی میں سرگرم عمل ہیں۔ عملی سیاست کا آغاز مرتضٰی پویا نے 1975ء سے کیا اور آج تک اس میں مصروف ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ان سے ملکی اور عالمی حالات پر ایک انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ
اسلام ٹائمز: کچھ دن قبل آیت اللہ اختری پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے اور اسلام آباد میں ہونیوالے سیمینار میں انہوں نے کشمیر کے ایشو پر پاکستان کے موقف کی تائید کی۔ آپ بھی اس سیمینار میں شریک تھے، انکے بیان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
آغا مرتضٰی پویا: الحمداللہ آغا اختری نے بڑے واضح الفاظ میں امام راحل کے خیالات کا اظہار کیا اور اپنے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے موجودہ رہبر امام خامنہ ای کے خیالات بھی بڑے اچھے انداز میں پیش کئے۔ ایران ہمیشہ پاکستان کے ساتھ بڑی مضبوطی کیساتھ تعاون کرتا رہا ہے۔ آیت اللہ اختری نے کشمیر کے حوالے سے بڑے واضح الفاظ میں بات کی، جسے سیمینار میں شریک تمام مکاتب فکر کے علماء نے سراہا۔ امام راحل کے نزدیک بھی کشمیر ایک بہت حساس مسئلہ تھا بلکہ یوں کہوں کہ امام راحل کے ہاں ہمیشہ سے فلسطین، افغانستان اور کشمیر حساس ایشو تھے اور اس حوالے سے بڑے واضح بیانات دیتے تھے۔
اسلام ٹائمز: چند ہفتے پہلے حزب اللہ نے اسرائیل کے حملے کا بڑا جرات کیساتھ جواب دیا۔ اسوقت اسرائیل کی کیا صورتحال ہے۔؟
آغا مرتضٰی پویا: اسرائیل تو ختم ہوچکا ہے، وہ ناکام ہوچکے ہیں۔ امریکہ نے اسرائیل اور آل سعود کے منہ پر تھوک دیا ہے۔ اب اسرائیل کے بس کی بات نہیں کہ وہ حزب اللہ کا مقابلہ کرسکے۔ سید حسن نص اللہ نے بڑی جرات کے ساتھ اسرائیل کو مخاطب ہوکر کہا کہ تمہاری حیثیت مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے۔
اسلام ٹائمز: بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ شام میں جنگ لڑی جا رہی تھی، اس لئے اسرائیل نے حزب اللہ کو آزمایا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں۔؟
آغا مرتضٰی پویا: ہنستے ہوئے، حزب اللہ کوئی کمزور نہیں ہوئی، یہ سب کی بھول ہے۔ شام کے حوالے سے پوری دنیا شام کیساتھ ہے۔ روس، چین حتٰی امریکہ بھی پس پردہ شام کیساتھ ہے۔ شام کے محاذ پر دشمن کو شکست ہوئی ہے۔
اسلام ٹائمز: شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد سعودی عرب کی پالیسی میں کوئی تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔؟
آغا مرتضٰی پویا: آل سعود کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ جب تک آل سعود کو مکہ اور مدینہ سے بےدخل نہیں کیا جاتا، ان میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی، ان کو ختم کر دینا چاہیے۔ خانہ کعبہ مسلمانوں کے حوالے کر دینا چاہیے۔ اسلام کی اصل شکل آل سعود نے بگاڑ دی ہے۔ یہ کسی معافی کے مستحق نہیں۔ انہوں نے عالم اسلام کو کمزور کیا ہے۔
اسلام ٹائمز: اکیسویں ترمیم اور فوجی عدالتوں کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
آغا مرتضٰی پویا: پتہ نہیں، میں نے اس پہ زیادہ توجہ نہیں دی۔ اس لئے اس پر کیا کہوں۔
اسلام ٹائمز: کالعدم تنظیمیں آج بھی اسی طرح سے کام کر رہی ہیں، لیکن حکومت برائے نام کارروائیاں کر رہی ہے۔ کیا اس حکومت سے توقع ہے کہ یہ دہشتگردی کا خاتمہ کریگی۔؟
آغا مرتضٰی پویا: میں امید کرتا ہوں کہ فوج نے دہشتگردی کیخلاف اپنی ذمہ داری سنبھالنے کا عزم کیا ہے اور وہ پورا عزم دکھائیں گے۔ حکومت سے توقع نہیں کی جاسکتی، لیکن فوج پر یقین ہے کہ وہ اس ناسور کو ختم کرکے ہی دم لے گی۔
اسلام ٹائمز: نواز شریف کی کارکردگی پر کیا کہیں گے۔؟
آغا مرتضٰی پویا: ہم نہ پہلے نواز شریف کو پسند کرتے تھے اور اب برداشت کرتے ہیں، نواز شریف نے ہمیشہ الیکشن چورایا ہے، دھاندلی کرکے الیکشن جیتے ہیں، ایسے لوگوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ عوام کو فائدہ پہنچائیں گے۔
اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی پالیسیوں میں شفٹ آیا ہے۔؟
آغا مرتضٰی پویا: بہت بڑا شفٹ آیا ہے، اس نے پورے خطے کو پاکستان اور ایران کے حوالے کر دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا شفٹ آئے گا۔ جلد آپ آل سعود کا انجام دیکھیں گے۔ ایران پہلے سے کہیں مضبوط ہوکر سامنے آیا ہے۔
اسلام ٹائمز: اس دعوے کی تائید میں کوئی انفارمیشن شیئر کرنا چاہیں گے۔؟
آغا مرتضٰی پویا: امریکہ کا فیصلہ کوئی پرانا نہیں ہے، ابھی پانچ چھ ماہ کا فیصلہ ہے۔ کچھ موقع دیں، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
اسلام ٹائمز: عالمی دہشتگرد تنظیموں خاص طور پر داعش کے بارے میں کہتے ہیں۔؟
آغا مرتضٰی پویا: یہ کچھ نہیں ہے، اس کا کوئی زور نہیں۔ یہ اسرائیلیوں کی تحریک ہے، جو مر چکی ہے۔ اسرائیلیوں کی بقاء اسی میں ہے کہ وہ اس طرح کے گروہوں کو جنم دیں۔
اسلام ٹائمز: ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کب واپس آ رہے ہیں۔؟
آغا مرتضٰی پویا: ابھی پتہ نہیں۔ خدا کرے کہ وہ جلد کوئی فیصلہ کرکے واپس آئیں، ابھی تک انھوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
.......
/169